Day

*”تعارف مفتی قاسم ضیاء القادری دامت برکاتہم العالیہ”*

ھادئ ملت، خزانہ روحانیت مولانا الحاج ابوالحسن محمد قاسم ضیاء القادری مدظلہ العالی 1412 ھ بمطابق 5 جنوری 1991 ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔

*تعلیم

آپ دامت برکاتہم العالیہ نے بہت کم عرصے میں درس نظامی  پھر تخخص فی العلوم میں مہارت حاصل کرکے آج مفتئ اسلام بن گئے ۔

*تصانیف 

یوں تو آپکی کئ کتب قابل تعریف ہیں، یہاں پر چند ذکر کی جارہی ہیں ۔

*تخلص فتاوی فیض الرسول و فقہ ملت

*معجزات مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

*الصلوة والسلام کے صیغوں کا کتب سے ثبوت

*شان رمضان

*میڈیکل سائنس اور روزے کے مسائل

شہرہ آفاق کتب ہیں ۔

 

*ضیاء الھدی کا تعارف*
1: *الصفہ اسلامک کالج* :-الحمدلله الصفہ اسلامک میں اس وقت سیکڑوں مسلم بہنیں عالمہ کورس کر رہی ہیں اور شارٹ کورس کر رہی ہیں ۔
2: *المجلس الروحانی*:ہزاروں مسلم بھائی، مسلم بہنوں کے استخارے کیئے جارہے ہیں اور روحانی علاج، کاٹ کے عمل بھی کئے جارہے ہیں ۔

3 *:قرآن اسکول* :میں سیکڑوں مسلم بچے، مسلم بچییاں، مسلم بہنیں ناظرہ، حفظ کی تعلیم لے رہی ہیں ۔
4: **اون لائن، آف لائن کورسز*:میں کئ سیکڑوں مسلم بہنیں اور مسلم بچے، مسلم بچیاں شارٹ کورسز کر رہی ہیں ۔
5: *حفلۃ الذکر*:امت کی غمخواری، ظاہر، باطن کی اصلاح، پریشانیوں کیلئے حفلۃ الذکر کروایا جاتا ہے۔
6 *:ویلفیئر ورک*:آخری نبی صلی الله عليه وآلہ وسلم کی امت کی غمخواری کیلئے ضیاء الھدی ویلفیئر کا ورک بھی کررہی ہے۔
7:مساجد، مدارس، جامعات کی تعمیرات:دین اسلام کی خدمت اور دینی تعلیمات کو عام کرنے کیلئے ضیاء الھدی مساجد، مدارس، جامعات کی تعیرات کا کام کر رہی ہے۔
8: *سادات کرام کی خدمت*:الحمد للہ عزوجل مفتی قاسم مدظلہ العالی آل رسول سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اسلئے انکی خدمت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
9 *:،G. D آکسفورڈ اسکول*
مسلم بہنوں، مسلم بھائیوں ۔مسلم بچوں، مسلم بچیوں کو بہترین معیاری تعلیم دینے کےلئے G. D آکسفورڈ اسکول کے قیام پر کام جاری ہے۔

“حفلۃ الذکر “

حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ

آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عظمت ہے:”اللہ  عزوجل کے کچھ سیاح فرشتے ہیں، جب وہ ذکر کی محافل کے پاس سے گزرتے ہیں  تو ایکدوسرے سے کہتے ہیں (یہاں)  بیٹھو ۔جب ذاکرین (یعنی ذکر کرنے والے) دعا مانگتے ہیں تو وہ فرشتے انکی دعا پر آمین کہتے ہیں، جب وہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھجتے ہیں تو وہ فرشتے بھی ان کے ساتھ مل کر درود بھجتے ہیں حتی کہ وہ منتشر ہو جاتے ہیں ۔پھر فرشتے ایک دوسرے لو کہتے ہیں کہ ان خوش نصیبوں کیلئے  خوشخبری ہے کہ وہ مغفرت  کے ساتھ  واپس  جا رہے ہیں “ر